Obesity in Urdu , its causes , symptoms, and Treatment in Homoeopathy.
موٹاپا یا وزن کا بڑھ جانا۔ اسکی وجوہات ، علامات ، اور علاج ہومیوپیتھک ۔
اس مرض میں جلد کے زیریں اور اندرونی اعضاء کے گرد چربی بکژت جمع ہو جاتی ہے۔

اس لئے جسم بہت وزنی اور بےڈول سا ہو جاتا ہے۔ اور نیز اندرونی اعضاء بھی اپنا اپنا فعل بخوبی سر انجام نہیں دے سکتے اور ہاضمہ میں بھی فتور ہوتا ہے۔ اور چہرہ بھربھرایا ہوا ہوتا ہے۔ اور تمام جسم پھولا ہوا ہوتا ہے۔ اکژ ایسے اشخاص جوڑوں کے دردوں میں مبتلا ہوا کرتے ہیں۔

اسباب
یہ مرض موروثی بھی ہوتا ہے۔ اور کبھی بچپن سے ہی ایک شخص غیر معمولی طور پر موٹا ہوتا جاتا ہے۔ بعض اشخاص قدرتی طور پر موٹے ہوتے ہیں اور بعض پتلے۔ بعض اشخاص معمولی غذا سے فربہ ہوتے جاتے ہیں۔ اور بعض عیش و عشرت میں بھی لاغر رہتے ہیں۔ یہ باتیں روزمرہ دیکھنے میں آتی ہیں۔ مگر اس کے متعلق کوئی وجوہات پیش نہیں کر سکتے۔ کچھ اہم اسباب درج ذیل ہیں۔
میٹابولزم،
جو اس بات پر اثر انداز ہو سکتی ہے کہ آپ کا جسم کھانے کو توانائی میں کیسے پروسس کرتا ہے اور چربی کو کیسے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔
بڑھاپے میں اضافہ،
جس سے پٹھوں کی کمیت اور میٹابولک ریٹ سست ہو سکتا ہے، جس سے وزن بڑھانا آسان ہو جاتا ہے۔
کافی نیند نہ آنا،
جو ہارمونل تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے جس سے آپ کو بھوک لگتی ہے اور کچھ زیادہ کیلوری والے کھانے کی خواہش ہوتی ہے
حمل،

کیونکہ حمل کے دوران بڑھے ہوئے وزن کو کم کرنا مشکل ہو سکتا ہے اور آخر کار موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔
حیض کا موقوف ہونا۔
بعض مستورات کو حیض کا آنا موقوف ہو جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ موٹاپے کا شکار ہو جاتی ہیں۔
بعض صحت کی حالتیں بھی وزن میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں، جو موٹاپے کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ شامل ہیں:
پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS)،

ایک ایسی حالت جو خواتین کے تولیدی ہارمونز کے عدم توازن کا سبب بنتی ہے
Prader-Willi syndrome،
پیدائش کے وقت موجود ایک نایاب حالت جو ضرورت سے زیادہ بھوک کا سبب بنتی ہے۔
کشنگ سنڈروم،
آپ کے سسٹم میں اعلیٰ کورٹیسول لیول (تناؤ ہارمون) کی وجہ سے پیدا ہونے والی حالت
hypothyroidism (غیر فعال تھائیرائڈ)،
ایک ایسی حالت جس میں تھائیرائڈ گلینڈ کافی اہم ہارمونز پیدا نہیں کرتا
osteoarthritis (OA) اور دیگر حالات
جو درد کا باعث بنتے ہیں جو سرگرمی کو کم کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
موٹاپے کا خطرہ کس کو ہے؟
عوامل کا ایک پیچیدہ مرکب کسی شخص کے موٹاپے کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
جینیات
کچھ لوگوں میں ایسے جین ہوتے ہیں جو ان کے لیے وزن کم کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔

ماحول اور کمیونٹی
گھر، اسکول اور آپ کی کمیونٹی میں آپ کا ماحول سب پر اثر انداز ہو سکتا ہے کہ آپ کیسے اور کیا کھاتے ہیں، اور آپ کتنے فعال ہیں۔
آپ کو موٹاپے کا زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے اگر آپ:
صحت مند کھانا محدود حد تک نہیں کھاتے، اور ہائی کیلوری والے فوڈ آپشنز، جیسے فاسٹ فوڈز اور بازاری گھی میں تلی ہوئی ثقیل چیزوں سے پرہیزنہیں کرتے

کھیلنے، چلنے یا ورزش کرنے کے کو آپ بوجھ سمھجتے ہیں۔
نفسیاتی اور دیگر عوامل
ڈپریشن بعض اوقات وزن میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ کچھ لوگ جذباتی سکون کے لیے کھانے کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔ بعض اینٹی ڈپریسنٹس وزن میں اضافے کے خطرے کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔
تمباکو نوشی چھوڑنا ہمیشہ اچھی بات ہے، لیکن چھوڑنے سے وزن بھی بڑھ سکتا ہے۔ کچھ لوگوں میں، یہ ضرورت سے زیادہ وزن میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس وجہ سے، یہ ضروری ہے کہ جب آپ چھوڑ رہے ہوں تو خوراک اور ورزش پر توجہ مرکوز کریں، کم از کم انخلا کی ابتدائی مدت کے بعد۔

ادویات،
جیسے سٹیرائڈز یا پیدائش پر قابو پانے کی گولیاں، آپ کے وزن میں اضافے کا خطرہ بھی بڑھا سکتی ہیں۔

موٹاپے کی تشخیص۔
آپ کا ڈاکٹر موٹاپے سے متعلق صحت کے خطرات کی تشخیص میں مدد کے لیے کچھ ٹیسٹ بھی کروا سکتا ہے۔ ان میں شامل ہوسکتا ہے:
کولیسٹرول اور گلوکوز کی سطح کو جانچنے کے لیے خون کے ٹیسٹ
جگر کے فنکشن ٹیسٹ
ذیابیطس کی اسکریننگ
تھائیرائڈ ٹیسٹ
دل کے ٹیسٹ، جیسے الیکٹروکارڈیوگرام (ECG یا EKG)
آپ کی کمر کے ارد گرد چربی کی پیمائش بھی موٹاپے سے متعلق بیماریوں کے لیے آپ کے خطرے کا ایک اچھا پیش خیمہ ہے۔

پیچیدگیاں
موٹاپے کے شکار افراد میں صحت کے متعدد ممکنہ مسائل پیدا ہونے کا
زیادہ امکان ہوتا ہے، بشمول:
دل کی بیماری اور فالج۔
موٹاپا آپ کو ہائی بلڈ پریشر اور غیر معمولی کولیسٹرول کی سطح کا زیادہ امکان بناتا ہے، جو دل کی بیماری اور فالج کے خطرے کے عوامل ہیں۔
ٹائپ 2 ذیابیطس۔
موٹاپا خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے کے لیے جسم کے انسولین کے استعمال کے طریقے کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس سے انسولین کے خلاف مزاحمت اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
بعض کینسر۔
موٹاپا بچہ دانی، گریوا، اینڈومیٹریئم، بیضہ دانی، چھاتی، بڑی آنت، ملاشی، غذائی نالی، جگر، پتتاشی، لبلبہ، گردے اور پروسٹیٹ کے کینسر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
ہاضمے کے مسائل۔
موٹاپا سینے کی جلن، پتتاشی کی بیماری اور جگر کے مسائل پیدا ہونے کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔
نیند کی کمی۔
موٹاپے کے شکار افراد میں نیند کی کمی کا امکان زیادہ ہوتا ہے، یہ ایک ممکنہ طور پر سنگین عارضہ ہے جس میں نیند کے دوران سانس بار بار رک جاتی ہے اور شروع ہوجاتی ہے۔

اوسٹیو ارتھرائٹس۔
موٹاپا جسم کے اندر سوزش کو فروغ دینے کے علاوہ وزن اٹھانے والے جوڑوں پر دباؤ کو بڑھاتا ہے۔ یہ عوامل اوسٹیو ارتھرائٹس جیسی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

موٹاپے کا علاج غذا سے
ایسی غذا جن میں روغن، نشاستہ اورمیٹھا بہت ہو۔ان سے قطعی پرہیز کرنا چایئے۔آلو،شکر،مکھن،بالائی،بیئر، شیریں میوہ جات اور شراب وغیرہ انکا استعمال کم سے کم کریں۔دن رات میں سات گھنٹے سے زیادہ مت سوئیں۔مناسب ورزش کریں۔کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی کریں۔ موٹا آٹا کھایئں۔ اسطرح سے عمل کریں تو آپ موٹاپے سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔
ہومیو پیتھک علاج ۔
فائٹولاکا بیری ٹیبلٹس: چار گولی صبح اور چار گولی شام کو تازہ پانی کے ہمراہ استعمال کریں۔ اگر ایک ماہ استعمال کرنے بعد فائدہ نہ ہو تو۔
امونیم برومیٹم 3x ہر چھ گھنٹے بعد
کلکریا آئرس 3x ، دو گرین ہرآٹھ گھنٹہ بعد ۔
دیگر ادویات کیسیکم، گریفائٹس، فائٹولاکا مدر ٹنکچر دو قطرے ہر چھ گھنٹے بعد استعمال کرنا بھی مفید ہے۔
احتیاط لازم ہے
کوئی بھی میڈیسن استعمال کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں۔ اپنے طور پر کوئی بھی میڈیسن استعمال نہ کریں۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر جونس (ایم ڈی) لکھتے ہیں اگر پتلا ہونا چاہتے ہیں تو تمام میٹھی اشیاء کھانی چھوڑدو۔ اور ترش اشیاء استعمال کریں۔ نان مکھن دودھ شکر آلو بیئر اور شوربا وغیرہ سے پرہیز کریں۔ ان کے علاوہ تمام غذا استعمال کر سکتے ہیں۔ ان ہدایات پر عمل کرنے سے آدھ سیر وزن ایک ہفتہ میں کم ہو جائے گا۔

یہ آرٹیکل کیسا لگا۔ کمنٹ بکس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔ اور صحت اور خوبصورتی لے حوالے سے مزیس تفصیل کے لئے میرا چینل سبکرائب کریں۔
2 Comments